لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے نائب صدر اور ترک پارلیمنٹ کی فلسطین کمیٹی کے چیئرمین، رکن پارلیمنٹ حسن توران نے کہا ہے کہ غزہ اور فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ دراصل ان نوآبادیاتی منصوبوں کا تاریخی تسلسل ہے جن کا آغاز ’’سائیکس پیکو‘‘ معاہدے سے ہوا اور 1948 کی ’’نکبہ‘‘ پر جا کر مکمل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یروشلم اور فلسطین کا دفاع دراصل پوری مسلم دنیا کے دارالحکومتوں کی سلامتی اور استحکام کا براہ راست دفاع ہے۔
ترکیہ میں فلسطینیوں کی تیسری عوامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توران نے کہا کہ نوآبادیاتی طاقتوں کے بنائے ہوئے نقشوں نے صرف زمین کو تقسیم نہیں کیا بلکہ لوگوں کے مستقبل اور شہروں کی یادوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے سلطان عبدالحمید ثانی کے تاریخی مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فلسطین کی ایک انچ زمین بھی صہیونی تحریک کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ ان کے نزدیک یہ ایسی سرزمین تھی جو قوم کے خون سے سیراب ہوئی تھی اور جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’جو لوگ تاریخ نہیں پڑھتے اور یہ نہیں سمجھتے کہ آج فلسطین میں کیا ہو رہا ہے، وہ دنیا میں ہونے والی جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں اور اثر و رسوخ کی تقسیم کے منصوبوں کو بھی نہیں سمجھ سکتے۔‘‘
لیگ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن توران نے کہا کہ اصل شکست میدان جنگ میں نہیں بلکہ ’’ہتھیار ڈالنے‘‘ سے ہوتی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت نے دنیا کو دکھا دیا ہے کہ اپنے حقوق پر قائم رہنا اور کسی کے سامنے سر نہ جھکانا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔
توران نے دنیا بھر میں ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے یکجہتی کے کارکنوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے عالمی سطح پر فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کی علامت بننے والی ریچل کوری اور عائشہ نور ایزگی ایگی جیسی شخصیات کی قربانیوں کو یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیگ کی نظر میں نسل کشی کو مسترد کرنے والی ہر آزاد آواز انسانیت کی اس جدوجہد میں ایک ساتھی اور بھائی کی حیثیت رکھتی ہے۔
اپنی تقریر کے اختتام پر توران نے مسلم دنیا سے اپیل کی کہ وہ اپنے اختلافات کو ایک طرف رکھے اور اپنی توجہ دوبارہ القدس شریف کی طرف مرکوز کرے۔ انہوں نے کہا، ’’القدس شریف پر حکومت کرنے کے لئے نہیں بلکہ اس کی خدمت کے لیے ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ اپنی تہذیبی قیادت اور پہل دوبارہ حاصل کرنے کا راستہ اسی وقت کھلے گا جب قوم کے قلب میں قائم اس نوآبادیاتی وجود کا خاتمہ ہوگا۔