پریس ریلیز
اپریل 4, 2026سمپوزیم کا حتمی اعلامیہ:"فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینا: کیا یہ قتل کے لیے قانون سازی ہے یا ایک مکمل جنگی جرم؟ اسرائیلی پھانسی کے قانون کا مقابلہ کرنے میں بین الاقوامی پارلیمانی ذمہ داری"
حتمی اعلامیہ
سمپوزیم: "فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینا: کیا یہ قتل کے لیے قانون سازی ہے یا ایک مکمل جنگی جرم؟ اسرائیلی پھانسی کے قانون کا مقابلہ کرنے میں بین الاقوامی پارلیمانی ذمہ داری"
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے زیر اہتمام منعقدہ سیاسی اور پارلیمانی سمپوزیم کے اختتام پر، جس کا عنوان "فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینا: کیا یہ قتل کے لیے قانون سازی ہے یا ایک مکمل جنگی جرم؟ اسرائیلی پھانسی کے قانون کا مقابلہ کرنے میں بین الاقوامی پارلیمانی ذمہ داری“تھا۔ اس میں پارلیمانی، قانونی اور سیاسی شخصیات جمع ہوئیں تاکہ موجودہ قانونی چیلنجز اور مطلوبہ بین الاقوامی نگرانی اور قانون سازی کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔
شرکاء نے درج ذیل نکات کی تصدیق کی:
پہلا: فوری اور ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ قابض کے جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کو بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جا سکے، اور قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون کو روکنے کے لیے کام کیا جائے، جبکہ ان کی تکالیف کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔
دوسرا: اس قانون کو عمومی تناظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ یہ قابض قوت کی جانب سے فلسطینی عوام، خصوصاً غزہ پٹی کے خلاف جاری نسل کشی پر مبنی جنگ کا حصہ ہے۔ یہ قیدیوں کے خلاف منظم پالیسیوں کا حصہ ہے، جن میں حالیہ عرصے میں اضافہ ہوا ہے، جیسے منظم تشدد، بھوکا رکھنا، جان بوجھ کر طبی سہولتوں سے محروم رکھنا، اور سخت تنہائی میں قید۔ یہ افسوسناک انسانی حالات، جن کی وجہ سے درجنوں قیدی شہید ہو چکے ہیں، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
تیسرا: موجودہ مرحلہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ صرف مذمت سے آگے بڑھ کر مؤثر سیاسی، پارلیمانی اور قانونی اقدامات کیے جائیں۔ یہ تبدیلی جارحیت کو روکنے، ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانے اور فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق بحال کرنے کے لیے ضروری ہے۔
چوتھا: بین الاقوامی پارلیمانی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ قابض قوت کے جرائم کی واضح اور کھلی مذمت کی جائے اور ان مؤقف کو عملی اور مؤثر دباؤ والے اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
پانچواں: بین الاقوامی قانونی کوششوں کی حمایت کی جائے جن کا مقصد قابض قیادت کو بین الاقوامی عدالتوں میں کٹہرے میں لانا اور جنگی جرائم اور نسل کشی کے خلاف قانونی راستے کو مضبوط بنانا ہے۔
چھٹا: پارلیمانوں، بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان رابطے کو مضبوط بنایا جائے تاکہ فلسطینی حقوق اور قیدیوں کے مسئلے کی حمایت میں ایک متحد عالمی محاذ قائم کیا جا سکے۔
ساتواں: اس بات کی دوبارہ تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ قانون قابض حکومت کے ایک خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت قتل کو قانونی شکل دی جا رہی ہے اور ایک امتیازی، نسل پرستانہ نظام قائم کیا جا رہا ہے، جس میں سزا قومی شناخت کی بنیاد پر دی جاتی ہے۔ یہ پیش رفت خطے میں مزید عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے اور امن کے کسی بھی امکان کو کمزور کرتی ہے۔
آٹھواں: بین الاقوامی پارلیمانوں، انسانی حقوق کے اداروں اور اقوام متحدہ سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ہم فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ اس خطرناک قانون کو روکا اور ختم کیا جا سکے، فلسطینی قیدیوں کو فوری بین الاقوامی تحفظ فراہم کیا جائے، اور ان کے خلاف ہونے والے جرائم، جن میں تشدد، بھوک اور طبی سہولتوں سے محرومی شامل ہیں،کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کی جائیں۔
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین
ہفتہ، 4 اپریل 2026
غزہ کے حوالے سے سلامتی کونسل کے حالیہ فیصلے پر لیگ کا بیان...
لیگ عالمی برادری سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ بین الاقوامی انصاف کے اصولوں کا احترام کرے، دوہرے معیار استعمال نہ کرے، اور ان فیصلوں کے نفاذ کو یقینی بنائے جو شہریوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں...
مزید پڑھیں
لیگ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لئے سزائے موت کے قانون پر اسرائیلی کن...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی جانب سے فلسطینی قیدیوں پر سزائے موت کے قانون کی پہلی منظوری پر شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام قابض حکومت کے ان مظالم میں ...
مزید پڑھیں
لیگ کا غزہ میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم،محاصرہ ختم کرنے، تعمیر نو ...
یگ اعادہ کرتی ہے کہ فلسطینی عوام، جنہوں نے برسوں کی بمباری، محاصرے اور بھوک کا سامنا کیا ہے، آزادی، خودمختاری، باوقار زندگی اور اپنے تمام جائز حقوق کے حصول کے مستحق ہیں، جن کی ضمانت بین الاقوامی قوانی...
مزید پڑھیں