پریس ریلیز
لیگ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے لئے سزائے موت کے قانون پر اسرائیلی کنیسٹ کے ووٹ کی مذمت
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی جانب سے فلسطینی قیدیوں پر سزائے موت کے قانون کی پہلی منظوری پر شدید مذمت کا اظہار کیا ہے۔ یہ اقدام قابض حکومت کے ان مظالم میں ایک خطرناک اضافہ ہے جو وہ قیدیوں کے خلاف مسلسل کرتی آ رہی ہے۔
یہ قانون بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے، خصوصاً چوتھے جنیوا کنونشن کی، جو قابض طاقت کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ زیر قبضہ افراد پر من مانی سزائیں سنائے یا ان پر غیر قانونی اقدامات کرے۔
لیگ نے زور دے کر کہا کہ یہ قانون، اسرائیلی جیلوں اور حراستی مراکز میں قیدیوں پر ہونے والے بہیمانہ تشدد، غیر انسانی سلوک، اور ناقابل برداشت حالات قید کے ساتھ مل کر، اجتماعی نسل کشی (Genocide) کے زمرے میں آتا ہے — خاص طور پر درج ذیل اقدامات کی صورت میں، جب گروہ کے افراد کو جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا اورگروہ پر ایسے حالات مسلط کرنا جن سے ان کی جسمانی تباہی کا ارادہ ظاہر ہو۔
لیگ نے واضح کیا کہ یہ ووٹ ان متعصبانہ قوانین اور پالیسیوں کے سلسلے کا حصہ ہے جو قابض حکام کو ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریوں، اور منظم تشدد کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے بنائے جا رہے ہیں۔ ان مظالم کا نشانہ ہزاروں قیدی ہیں، جن میں خواتین، بچے، اور بیمار افراد شامل ہیں — جو انسانی حقوق اور عالمی اخلاقی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
لیگ نے ان تمام ممالک کی پارلیمانوں سے اپیل کی ہے جنہوں نے اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد تشدد اور کنونشن برائے انسداد نسل کشی پر دستخط کئے ہیں، نیز تمام متعلقہ انسانی حقوق اور امدادی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی قیدیوں اور نظربند افراد پر ہونے والے منظم تشدد اور جبری گمشدگی کی پالیسی کو فوری طور پر ختم کرانے کے لئے عملی اقدامات کریں۔
لیگ نے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کے لئے فوری اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ تمام من مانی طور پر قید فلسطینیوں کو رہا کیا جائے، جبری طور پر گمشدہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں، اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کو تمام حراستی مراکز تک بلا رکاوٹ رسائی دی جائے۔
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین
منگل، 11 نومبر 2025