urdu

ترتیبات

اپریل 4, 2026

لیگ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون پر پارلیمانی سمپوزیم کا انعقاد،فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ اور اسے جنگی جرم قرار دینے کی اپیل

لیگ کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینے کے قانون پر پارلیمانی سمپوزیم کا انعقاد،فوری بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ اور اسے جنگی جرم قرار دینے کی اپیل

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے ہفتے کے روز ایک پارلیمانی سمپوزیم منعقد کیا جس کا عنوان، ” فلسطینی قیدیوں کو پھانسی دینا: کیا یہ قتل کے لیے قانون سازی ہے یا ایک مکمل جنگی جرم؟ اسرائیلی پھانسی کے قانون کا مقابلہ کرنے میں بین الاقوامی پارلیمانی ذمہ داری“ تھا۔اس کا مقصد اس قانون کے قانونی اور سیاسی اثرات کا جائزہ لینا اور بین الاقوامی سطح پر اقدامات کے راستے تلاش کرنا تھا۔

اس سمپوزیم میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں لیگ کے صدر جناب حمید بن عبداللہ الاحمر، اردن کے رکن پارلیمنٹ ینال فریحات (جو اجلاس کے ناظم تھے)، فلسطینی نیشنل انیشیٹو کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ برغوثی، قدورہ فارس (جو قیدیوں اور سابق قیدیوں کے امور کے ادارے کے سابق سربراہ ہیں)، بین الاقوامی قانون کے ماہر اشرف نصراللہ، اور لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی شامل تھے۔

منظم طریقے سے خاتمہ کرنے کی پالیسی

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے لیے فوری بین الاقوامی تحفظ فراہم کرنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے پھانسی کے قانون کو روکنے کا مطالبہ کیا اور قیدیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی زیادتیوں کو اجاگر کیا۔

رکن پارلیمنٹ ینال فریحات نے اجلاس کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قابض طاقت موجودہ حالات سے فائدہ اٹھا کر خطرناک قوانین منظور کر رہی ہے، جو قیدیوں اور مسجد اقصیٰ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے اس مجوزہ قانون کو " سوچی سمجھی نیت کا واضح اعلان" قرار دیا جس کا مقصد قیدیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سمپوزیم اس قانون کو ختم کرنے کے لیے عرب اور بین الاقوامی پارلیمانی تحریک کا حصہ ہے۔

لیگ کے صدر شیخ حمید بن عبداللہ الاحمر نے کہا کہ قابض طاقت سمجھتی ہے کہ دنیا موجودہ حالات میں مصروف ہے اور وہ بین الاقوامی نگرانی سے بچ سکتی ہے۔ یہ قانون "نسل کشی پر مبنی جنگ" کے وسیع تر پس منظر سے الگ نہیں، اور اس کے ساتھ ایسی منظم پالیسیاں بھی شامل ہیں جیسے تشدد، بھوک ، طبی سہولتوں سے محرومی، اور تنہائی میں قید رکھنا، جو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا،"لیگ نے پارلیمنٹیرینز اور بین الاقوامی اداروں کو فوری پیغامات بھیجے ہیں تاکہ اس قانون کو درست طور پر جنگی جرم قرار دیا جائے۔ حکومتوں کو ان منظم جرائم کے خلاف مضبوط مؤقف اپنانے کے لیے عالمی کردار ضروری ہے۔"

فاشزم کی طرف جھکاؤ اور عالمی خاموشی

فلسطینی نیشنل انیشیٹو کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مصطفیٰ برغوثی نے کہا کہ یہ قانون پہلے سے جاری قیدیوں کے قتل کو "قانونی شکل" دینے کی کوشش ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ویسٹ بینک، بیت المقدس اور اندرونی علاقوں میں 2000 سے زائد موقع پر قتل کے واقعات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

برغوثی نے چند اہم نکات پر روشنی ڈالی:

قانونی خلاف ورزی: بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی قابض طاقت مقبوضہ آبادی پر ایسا قانون نافذ کرنے کا حق نہیں رکھتی۔

نسلی امتیاز: یہ قانون اسرائیلی معاشرے میں "فاشسٹ رجحان" کو ظاہر کرتا ہے اور ایک ایسا نسلی امتیاز کا نظام قائم کرتا ہے جو جنوبی افریقہ سے بھی زیادہ سخت ہے۔

پابندیاں: انہوں نے عالمی برادری کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ پابندیاں عائد کرنے میں ناکام رہی ہے، اور کہا کہ کچھ مغربی ممالک اب بھی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا استقبال کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ عالمی فوجداری عدالت نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

انہوں نے مزید خبردار کیا کہ قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر سابق قیدیوں کے مقدمات دوبارہ کھول کر اس قانون کو ماضی پر بھی لاگو کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، اور زور دیا کہ اس قانون کو مکمل طور پر ختم کیا جانا چاہیے، صرف ترمیم کافی نہیں۔

جیلیں "قبرستان" بن رہی ہیں

قدورہ فارس نے خبردار کیا کہ اسرائیل جیلوں کو "قبرستان" میں تبدیل کرنا چاہتا ہے تاکہ فلسطینی مزاحمت کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر غزہ کے قیدیوں کے حوالے سے جیلوں کے اندر خفیہ طور پر سزائے موت دی جا رہی ہے، جسے جبری گمشدگی کے پردے میں چھپایا جا رہا ہے۔ 

فارس نے عالمی خاموشی کو "شراکت داری" قرار دیا اور اسرائیلی قبضے کے خلاف عرب، اسلامی اور عالمی سطح پر مکمل بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔

قانونی سطح پر اقدامات

بین الاقوامی قانون کے ماہر اشرف نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل ایک جامع سزا دینے کا نظام نافذ کر رہا ہے اور ساتھ ہی بین الاقوامی اداروں کو قیدیوں تک رسائی سے روک رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیلی حکام کے خلاف مقدمات چلانے کے لیے بین الاقوامی قانونی کوششوں کی حمایت کی جائے۔ پارلیمانوں اور سول سوسائٹی کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے تاکہ ایک متحد محاذ بنایا جا سکے۔ قیدیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کی جائیں۔

سمپوزیم کے اختتام پر ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی نے ایک اعلامیہ پڑھ کر سنایا، جس میں سفارشات پیش کی گئیں کہ پارلیمانی اور قانونی کوششوں کو مزید تیز کیا جائے تاکہ فلسطینی قیدیوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جا سکے اور پھانسی کے قانون کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

undefined-new

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کا ہندوستان کے وزیراعظم کو ا...

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نےہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک سرکاری خط بھیجا ہے، جس میں اُن سے اسرائیل کے مجوزہ دورے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی گئی ہے، کیونکہ فلسطینی عوام پر ح...

مزید پڑھیں

undefined-new

لیگ نے باہمی تعاون بڑھانے پر گفتگو کے لئے لاطینی فلسطینی فورم کے وفد س...

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے استنبول میں اپنے ہیڈکوارٹرمیں لاطینی فلسطینی فورم کے ایک وفد کا استقبال کیا۔ اس ملاقات میں لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی اور میڈیا شعبے کے سر...

مزید پڑھیں

undefined-new

ارکان پارلیمان نے فلسطین میں نسلی صفائے کے خلاف قانون سازی اور سفارتی ...

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے بین الاقوامی اسلامی فورم برائے ارکان پارلیمان کے اشتراک سے ”نسلی صفائے کے دور میں فلسطین کے ساتھ پارلیمانی یکجہتی“ عنوان پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس س...

مزید پڑھیں

العضوية في المنظمات الدولية