ترتیبات
دسمبر 7, 2025ارکان پارلیمان نے فلسطین میں نسلی صفائے کے خلاف قانون سازی اور سفارتی کارروائی کا مطالبہ کیا
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے بین الاقوامی اسلامی فورم برائے ارکان پارلیمان کے اشتراک سے ”نسلی صفائے کے دور میں فلسطین کے ساتھ پارلیمانی یکجہتی“ عنوان پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس سیمینار میں مختلف ممالک کے ارکان پارلیمان، قانونی ماہرین اور سیاسی نمائندوں نے شرکت کی۔
سیمینار کا افتتاح لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی نے کیا۔ انہوں نے اجلاس کے موضوعات اور مقررین کا تعارف کراتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کے خلاف جاری خطرناک صورتحال اور بڑھتی ہوئی جارحیت کے پیش نظر اس سیمینار کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔
بین الاقوامی اسلامی فورم برائے ارکان پارلیمان کے صدر ڈاکٹر عبد المجيد مناصرہ نے کہا کہ ”آج کی اصل لڑائی شعور کی لڑائی ہے، جس کے لئے سنجیدہ پارلیمانی جدوجہد درکار ہے، خاص طور پر سیاسی محاذ، معاشی بائیکاٹ اور اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کے خلاف۔“
فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن اسماعيل الأشقر نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا کوئی عارضی سیاسی معاہدہ نہیں، بلکہ عرب شناخت کو بدلنے اور فلسطین کی مرکزی حیثیت کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمان قانون سازی کے محاذ پر دفاع کی پہلی صف اور شعور کی آخری دیوار ہیں، کیونکہ فلسطینی کاز کا تحفظ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوامی نمائندوں کا فرض ہے، جو قانون سازی، نگرانی اور آگاہی کے ذریعے اس منصوبے کو ناکام بنا سکتے ہیں اور ثابت کر سکتے ہیں کہ فلسطین ہی امت کا قبلہ اور دائمی حق ہے۔
اردن کی رکن پارلیمان هدیٰ العتوم نے کہا کہ خطے میں تیزی سے بڑھتا ہوا اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا رجحان فلسطینی کاز اور عرب قومی سلامتی کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل اب صرف سیاسی معاہدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ تعلیم، میڈیا، معیشت اور ثقافت کے ذریعے عرب شعور کو بدلنے کی کوشش بن چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس عمل سے اسرائیلی قبضے کو قانونی جواز ملتا ہے، یہودی بستیاں مضبوط ہوتی ہیں، القدس کی یہودیت کو فروغ ملتا ہے، مزاحمت کمزور ہوتی ہے، اور اسرائیل کو عرب ممالک میں خفیہ اور معاشی سطح پر داخل ہونے کا موقع ملتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ نئی نسلوں پر صیہونی بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس کا مقابلہ قانون سازی اور عوامی سطح پر کرنا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور پارلیمان فلسطینی کاز کے دفاع میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
سابق الجزائری رکن پارلیمان عبدالرزاق مقری نے ارکان پارلیمان سے اپیل کی کہ وہ اپنی پارلیمانی استثنا، سیاسی حیثیت اور میڈیا طاقت کا بھرپور استعمال کریں، بیانات اور اعلانات جاری کریں، عوام میں شعور بیدار کریں اور میڈیا میں مؤثر طور پر بات رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے خلاف قوانین بنانا، پارلیمانی نگرانی کو مضبوط کرنا، قانونی و سفارتی کمیٹیوں میں شامل ہونا اور عوامی تحریکوں کی قیادت کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
انڈونیشیا کے رکن پارلیمان شهر العيد مآزات، جو پارلیمان میں خارجہ تعلقات کے سربراہ ہیں، نے بتایا کہ انڈونیشیا کی پارلیمان کے تحت فلسطین کے لئے کام کرنے والے 120 سے زائد ادارے سرگرم ہیں۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقوق کی حمایت میں انسانی، سیاسی اور سفارتی سرگرمیوں کے لئے پارلیمانی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔
مصر کے رکن پارلیمان ڈاکٹر محمد الفقی نے کہا کہ فلسطینی حقوق کے دفاع میں حکومتوں اور علاقائی و بین الاقوامی پارلیمانی تنظیموں کا کردار نہایت اہم ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت میں نئی پارلیمانی کوششیں اور اقدامات شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
موریطانیہ کے رکن پارلیمان شیخانی ولد بیبہ نے پارلیمان کے اندر نگرانی اور احتساب کی اہمیت پر بات کی، اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو جرم قرار دینے، اس سے متعلق معاہدوں کو مسترد کرنے، بائیکاٹ کے قوانین منظور کرانے اور فلسطین کی حمایت میں میڈیا اور معاشی کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
وکیل حسین عمار نے شریک ارکان پارلیمان کو ایک قانونی اقدام کے بارے میں آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں ترکش پبلک پروسکیوشن نے غزہ پر جاری نسل کش جنگ میں ملوث 30 اسرائیلیوں کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کئے۔ انہوں نے کہا کہ ”دو سال کی منظم نسل کشی نے اسرائیلی بیانیے کو مکمل طور پر بے نقاب کر دیا ہے“ اور مطالبہ کیا کہ اس طرح کے اقدامات کو دیگر ممالک میں بھی اپنایا جائے۔
الجزائری رکن پارلیمان احمد صادوق نے بھی مقامی قوانین کے تحت جنگی مجرموں اور نسل کشی میں ملوث افراد کے خلاف تحقیقات اور گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے قانونی اور انسانی حقوق کی دستاویزات کو محفوظ کرنے اور اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔
سیمینار میں شریک دیگر ارکان پارلیمان اور شخصیات نے بھی اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کا مقابلہ کرنے، فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کی حمایت کرنے اور غزہ کی پٹی پر عائد محاصرہ ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
لیگ نے باہمی تعاون بڑھانے پر گفتگو کے لئے لاطینی فلسطینی فورم کے وفد س...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے استنبول میں اپنے ہیڈکوارٹرمیں لاطینی فلسطینی فورم کے ایک وفد کا استقبال کیا۔ اس ملاقات میں لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی اور میڈیا شعبے کے سر...
مزید پڑھیں
لیگ نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی انسانی حقوق کمیٹی کے وفد کا استقبال...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے استنبول میں اپنے ہیڈکوارٹر میں ترک جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) کی انسانی حقوق کمیٹی کے ایک وفد کا استقبال کیا۔ وفد کی قیادت پارٹی کے استنبول میں نائب چی...
مزید پڑھیں
فلسطین کے لئے پارلیمانی حمایت پر گفتگو: لیگ کے سیکریٹری جنرل کی رکن پا...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے سیکریٹری جنرل، ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی نے اردن کے رکن پارلیمنٹ، باسم الروابدہ سے ملاقات کی، جس میں فلسطینی مسئلے کی حمایت کے لئے مشترکہ پارلیمانی کوششوں کو ...
مزید پڑھیں





