urdu

ترتیبات

فروری 24, 2026

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کا ہندوستان کے وزیراعظم کو اسرائیل کے مجوزہ دورے پر نظرثانی کا باضابطہ مطالبہ

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کا ہندوستان کے وزیراعظم کو اسرائیل کے مجوزہ دورے پر نظرثانی کا باضابطہ مطالبہ

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نےہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک سرکاری خط بھیجا ہے، جس میں اُن سے اسرائیل کے مجوزہ دورے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی گئی ہے، کیونکہ فلسطینی عوام پر حملے جاری ہیں۔

لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی کے دستخط شدہ پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ اس دورے سے متعلق خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ خط میں ہندوستان کے عالمی مقام اور بڑھتے ہوئے کردار کو سراہا گیا، لیکن ساتھ ہی اس وقت دورے کے قانونی اور سیاسی اثرات پر غور کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ بھارت کی تاریخ آزادی کی تحریکوں اور نوآبادیات کے خلاف جدوجہد کی حمایت سے جڑی رہی ہے، خاص طور پر فلسطینی عوام کی حمایت میں۔ اس لیے ہندوستان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کے اصولوں—بین الاقوامی قانون کے احترام، قوموں کے حق خودارادیت، اور الحاق، بستیوں کی توسیع اور اجتماعی سزا کی پالیسیوں کی مخالفت—پر قائم رہے۔

اس خط میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ مجوزہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اکتوبر 2023 سے غزہ میں، لیگ کے مطابق، ”نسل کشی“ جاری ہے اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔

لیگ نے جنوری 2024 میں عالمی عدالت انصاف (ICJ) کے اس فیصلے کا حوالہ بھی دیا، جس میں نسل کشی کنونشن کے تحت عبوری اقدامات کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ غزہ میں ایسے اقدامات کا خطرہ موجود ہے جو کنونشن کے دائرے میں آ سکتے ہیں، اور فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی تھی۔

مزید کہا گیا کہ قابض حکام کے بعض عہدیداروں کے خلاف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے تحت کارروائیاں جاری ہیں، جو مبینہ خلاف ورزیوں کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

خط میں ویسٹ بینک اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری اسرائیلی بستیوں کو چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، خاص طور پر قرارداد 2334کی خلاف ورزی قرار دیا گیا، جس میں بستیوں کو غیر قانونی قرار دے کر فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ مسلسل اسرائیلی پالیسیاں دو ریاستی حل کی بنیادوں کو کمزور کر رہی ہیں۔

آخر میں لیگ نےہندوستان کے وزیر اعظم سے اپیل کی کہ وہ اس دورے پر دوبارہ غور کریں اور ہندوستان کے عالمی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی اور عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں اور بین الاقوامی انسانی قانون پر عمل درآمد کے لیے کردار ادا کریں۔ خط میں کہا گیا کہ اس مرحلے پرہندوستان کے مؤقف کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر اس کی ذمہ داریوں کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔

undefined-new

لیگ نے باہمی تعاون بڑھانے پر گفتگو کے لئے لاطینی فلسطینی فورم کے وفد س...

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے استنبول میں اپنے ہیڈکوارٹرمیں لاطینی فلسطینی فورم کے ایک وفد کا استقبال کیا۔ اس ملاقات میں لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی اور میڈیا شعبے کے سر...

مزید پڑھیں

undefined-new

ارکان پارلیمان نے فلسطین میں نسلی صفائے کے خلاف قانون سازی اور سفارتی ...

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے بین الاقوامی اسلامی فورم برائے ارکان پارلیمان کے اشتراک سے ”نسلی صفائے کے دور میں فلسطین کے ساتھ پارلیمانی یکجہتی“ عنوان پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اس س...

مزید پڑھیں

undefined-new

لیگ نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی انسانی حقوق کمیٹی کے وفد کا استقبال...

لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے استنبول میں اپنے ہیڈکوارٹر میں ترک جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AKP) کی انسانی حقوق کمیٹی کے ایک وفد کا استقبال کیا۔ وفد کی قیادت پارٹی کے استنبول میں نائب چی...

مزید پڑھیں

العضوية في المنظمات الدولية