لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے ایک وفد نے لیگ کے صدر جناب حمید بن عبداللہ الاحمر کی قیادت میں فلسطین سے متعلق مستقل کمیٹی کے 14ویں اجلاس میں شرکت کی۔ یہ اجلاس اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے رکن ممالک کی پارلیمانی یونین (PUIC) کی 20ویں کانفرنس کے تحت آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقد ہوا۔لیگ کے اس وفد میں لیگ کے صدر کے علاوہ، لیگ کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی اور شعبۂ میڈیا کے سربراہ انجینئر عمر بوطالب بھی شامل تھے۔
فلسطین سے متعلق مستقل کمیٹی کے 14ویں اجلاس میں فلسطین کے مسئلے سے متعلق کئی اہم سیاسی مسودہ قراردادوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان میں اسلامی پارلیمانوں کا وہ کردار بھی شامل تھا جو بیت المقدس کو یہودیانے کے صہیونی منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ادا کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں اور حملوں کا مقابلہ کرنے کے طریقوں، مقبوضہ فلسطین میں بڑھتی ہوئی اسرائیلی بستیوں کی تعمیر اور فلسطینی قیدیوں کے خلاف اسرائیلی قبضے کی جانب سے کئے جانے والے جرائم اور خلاف ورزیوں کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ بھی زیر بحث آیا۔
اجلاس میں ’’غزہ ٹریبونل‘‘ کا فیصلہ بھی پیش کیا گیا۔ یہ دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اور قانونی ماہرین کی جانب سے قائم کی گئی ایک سول کوشش ہے، جس کا مقصد غزہ میں ہونے والی نسل کشی کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ یہ ٹریبونل ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی کی جانب سے پیش کی گئی درخواست کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔
اجلاس کے دوران لیگ کے وفد نے مجوزہ مسودہ قراردادوں پر بھی غور کیا۔ ان میں سے ایک قرارداد ستمبر 2024 میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کی گئی مشاورتی رائے کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس رائے میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے اور وہاں اس کی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اس قبضے کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔
ان قراردادوں میں نسلی امتیاز پر مبنی نظام (اپارتھائیڈ) کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ فلسطینی عوام کے ہزاروں افراد کو من مانی طور پر انتظامی حراست میں رکھنے کی مہم کی سخت مذمت کی گئی۔
اجلاس میں القدس الشریف (یروشلم) اور اس کی تاریخی، عرب اور اسلامی شناخت کو برقرار رکھنے کے لئے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی حمایت پر بھی بات ہوئی۔ اس کے ساتھ شام اور لبنان کے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیلی خلاف ورزیوں کی مذمت کرنے والی ایک مسودہ قرارداد پر بھی گفتگو کی گئی۔
کانفرنس میں لیگ کے وفد کی شرکت کا مقصد لیگ کی ادارہ جاتی موجودگی کو مزید مضبوط کرنا، فلسطین کے مسئلے کی حمایت کرنے والے تعلقات کا دائرہ وسیع کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی پارلیمانوں کے ساتھ مشترکہ تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
اس حوالے سے لیگ کے صدر جناب حمید بن عبداللہ الاحمر نے اس اجلاس کی انتہائی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایک ایسے اہم اور فیصلہ کن وقت میں ہو رہا ہے جب فلسطینی عوام کا مسئلہ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ اس صورتحال میں غزہ میں نسل کشی کی جنگ جاری ہے اور مقبوضہ شہر القدس الشریف کو یہودیانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس شرکت کا مقصد ’’غزہ کے خلاف جاری جارحیت کا مقابلہ کرنے اور القدس الشریف اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لئے اسلامی پارلیمانی سفارت کاری کے کردار کو فعال بنانا ہے۔‘‘
الاحمر نے مزید کہا،’’ہم یونین کی جانب سے منظور کی جانے والی تمام قراردادوں اور سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے ان کا مسلسل جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ انہیں ایسے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکے جو فلسطینی عوام کے ثابت قدم رہنے میں مدد دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے دفاع کے لئے پارلیمانی اتحادوں کے دائرے کو بھی وسیع کرنا چاہتے ہیں۔‘‘