ترتیبات
مئی 16, 2026فلسطین کی حمایت میں پارلیمانی کوششوں کو مربوط بنانے کے لئے کی ارجنٹائن کے ارکان پارلیمان کے ساتھ ملاقات
فلسطینی کاز کی حمایت کے لئے بین الاقوامی یکجہتی اور پارلیمانی سفارت کاری کو مضبوط بنانے کی مسلسل کوششوں کے تحت، گزشتہ روز جمعہ 15 مئی 2026 کو زوم کے ورچوئل پلیٹ فارم کے ذریعے ایک توسیعی اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے سیکریٹری جنرل، ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی، اور ارجنٹائن کے ممتاز ارکان پارلیمان نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلسطینی لاطینی فورم کے ڈائریکٹر جنرل احمد حویدی اور ارجنٹائن میں فورم کے ڈائریکٹر عبدالقادر ابو خریج بھی موجود تھے۔
اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر پارلیمانی، قانونی اور میڈیا سرگرمیوں میں باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے خاص طور پر ارجنٹائن اور وسیع لاطینی امریکی خطے کے تناظر میں صہیونی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے قومی تجربات کا بھی جائزہ لیا۔
اجلاس کے آغاز میں لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی نے تنظیم کا جامع تعارف پیش کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لیگ 2015 میں شیخ حمید بن عبداللہ الاحمر کی سربراہی میں قائم کی گئی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ لیگ ایک عالمی اور بین البراعظمی پارلیمانی نیٹ ورک ہے جو نظریاتی اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر کام کرتا ہے، اور اس کی انتظامی قیادت میں خواتین کی فعال نمائندگی بھی موجود ہے۔
ڈاکٹر بلعاوی نے زور دیا کہ لیگ تمام انسانوں کی برابری اور ہر قوم کے باعزت زندگی گزارنے کے حق پر یقین رکھتی ہے، اور اس کا مؤقف طاقت کے غلبے کے بجائے بین الاقوامی قانون پر مبنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیگ فلسطین میں ہونے والی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے کے لئے سیاسی اور میڈیا سطح پر کام کرتی ہے اور ایک متحد اور مؤثر پارلیمانی محاذ تشکیل دینے کے لئے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتی ہے۔
مزید برآں، ڈاکٹر بلعاوی نے ان تجاویز اور اقدامات کا بھی خاکہ پیش کیا جن کی حمایت لیگ کرتی ہے اور جنہیں ہر ملک کے قانونی نظام کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔
اجلاس میں ارجنٹائن کے شرکاء نے بھی تفصیلی گفتگو کی۔ لیفٹ فرنٹ کے ارکان پارلیمان نے اپنی سیاسی اور عملی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔ رکن پارلیمان خوان کارلوس جیورڈانو نے بتایا کہ ارجنٹائن کی بائیں بازو کی جماعت نے "گلوبل صمود" آزادی قافلے میں فعال شرکت کی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ممکنہ دورۂ ارجنٹائن کے خلاف فوجداری شکایات دائر کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے شعبے کی نجکاری کے خلاف اور ان کمپنیوں کے خلاف بھی مہم جاری ہے جو اسرائیلی قبضے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں۔ جیورڈانو نے واضح کیا کہ ان کے محاذ کی موجودہ ترجیحات عوامی تحریک کو منظم کرنا، اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کرنا اور حکومتی تعاون کو بے نقاب کرنا ہیں۔
دوسری جانب رکن پارلیمان وانینا بیاسی نے مطالبہ کیا کہ ان کوششوں کے خلاف ایک بین الاقوامی پارلیمانی مہم شروع کی جائے جن کے ذریعے "یہود دشمنی" کی مبہم اور لچکدار تعریفیں مسلط کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان تعریفوں کو اظہار رائے کی آزادی کو محدود کرنے اور اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کو دبانے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یورپی مزدور اور ٹریڈ یونین تحریکوں کی حمایت کی اہمیت پر بھی زور دیا اور سیاسی استعفوں اور بندرگاہوں کی ہڑتالوں جیسے براہ راست اقدامات کو فعال کرنے کی ضرورت بیان کی تاکہ ہتھیاروں کی فراہمی روکی جا سکے۔
اسی سلسلے میں رکن پارلیمان مونیکا شلوٹہاور نے غزہ کی پٹی میں محاصرہ توڑنے کے لئے ایک پارلیمانی وفد بھیجنے کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صوبائی ایوان نمائندگان میں ایک قرارداد پیش کی ہے جس میں فلسطینی حقوق کے حامیوں کے خلاف ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت کی گئی ہے۔ ان کے مطابق فلسطین کی جدوجہد دراصل جنگ اور نسل کشی کے نظام کے خلاف ایک سیاسی اور اخلاقی جدوجہد ہے۔
ایک اہم مداخلت میں پیرو نسٹ رکن پارلیمان لورینا پوکوئک نے نام نہاد "آئزک معاہدوں" سے متعلق اہم تفصیلات سامنے رکھیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ان معاہدوں کو کانگریس میں پیش کئے بغیر ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے منظور کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے خود ان دستاویزات کا عبرانی زبان سے ترجمہ کیا۔
پوکوئک نے کہا کہ یہ معاہدے ارجنٹائن کی قومی خودمختاری کے لئے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں، جن میں حساس جغرافیائی اور تزویراتی معلومات کی منتقلی بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق عدالتی، سیاسی اور میڈیا شعبوں میں بااثر شخصیات کو منظم انداز میں شامل کرنے اور بھرتی کرنے کے منصوبے بھی ان معاہدوں کا حصہ ہیں۔
اجلاس کے آخری حصے میں مستقبل کے عملی طریقہ کار پر توجہ دی گئی۔ ڈاکٹر محمد مکرم بلعاوی نے تجویز پیش کی کہ لاطینی امریکی ممالک میں ایک مستقل رابطہ اور تعاون کا نظام قائم کیا جائے تاکہ ایسے عملی خیالات اور منصوبے تیار کیے جا سکیں جنہیں بعد میں مشرق وسطیٰ میں بھی نافذ کیا جا سکے۔
اس تجویز کو شرکاء کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ جولیا پیریے نے اعلان کیا کہ وہ لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک کے قانون سازوں کو ہنگامی اجلاسوں میں مدعو کرنے اور ایک علاقائی پارلیمانی یکجہتی نیٹ ورک قائم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ جبکہ رکن پارلیمان وانینا بیاسی نے بھی اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اسے فوری طور پر عملی شکل دینے کے طریقوں پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
لیگ کے صدر کی اردن میں سینیٹ، ایوان نمائندگان اور پارلیمانی فلسطین کمی...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے صدر، حمید بن عبداللہ الاحمرنے اردن کے دارالحکومت عمان میں کئی سرکاری ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں اردنی سینیٹ کے صدر فيصل الفايز، ایوان نمائندگان کے اسپیک...
مزید پڑھیں
لیگ کے سیکریٹری جنرل کی استنبول میں ترکیہ میں مقیم فلسطینیوں کی تیسری ...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین کے سیکریٹری جنرل، محمد مکرم بلعاوی نے استنبول میں منعقد ہونے والی "ترکی میں مقیم فلسطینیوں کی تیسری کانفرنس" میں شرکت کی۔ یہ کانفرنس فلسطینی نکبہ کی 78ویں برس...
مزید پڑھیں
بین الاقوامی احتساب کی حمایت اور تعاون پر تبادلۂ خیال کے لئے لیگ کا ا...
لیگ آف پارلیمنٹرینز فار القدس اینڈ فلسطین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کے چیئرمین، جسٹس ایس مرلی دھر کو ایک آفیسیل خط ارسال کیا ہے۔...
مزید پڑھیں